امریکا ایران مذاکرات: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد اگلا مرحلہ برجنسٹاک میں متوقع

امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت میں اہم موڑ اس وقت سامنے آیا جب اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط مکمل ہوئے۔ اس پیش رفت نے دونوں ممالک کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو نئی سمت دے دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں صدر میکرون کے ساتھ عشائیے کے موقع پر ایران-امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کی ویڈیو وائٹ ہاؤس نے بھی جاری کی۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے صدر مسعود پزشکیان کی تصاویر جاری کیں جن میں وہ یادداشت پر دستخط کرتے دکھائی دیے۔
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کیے، جس سے پاکستان کا سفارتی کردار مزید نمایاں ہو گیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکا اور ایران کے مندوبین کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہونا ہے۔ ابتدائی طور پر اس اہم ملاقات کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا کا انتخاب کیا گیا تھا۔
تاہم دو روز قبل اچانک مقام تبدیل کرکے برجنسٹاک کو ترجیح دی گئی۔ برجنسٹاک ایک پہاڑی اور انتہائی محفوظ سیاحتی مقام ہے، جو حساس بین الاقوامی مذاکرات کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق مقام کی تبدیلی کی اہم وجوہات میں سخت سکیورٹی، میڈیا تک محدود رسائی اور رازداری برقرار رکھنے کی سہولت شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنیوا کے مقابلے میں برجنسٹاک میں خفیہ سفارتکاری زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہے۔
اگرچہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے برجنسٹاک کو مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے، تاہم ابھی یہ حتمی نہیں کہ ملاقات وہیں ہوگی۔ اگر جمعہ کو مذاکرات نہ ہو سکے تو اگلی تاریخ اور مقام سے متعلق فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔










